28 جنوری 2011 - 20:30

امریکا نے لاہور میں گرفتار اپنے شہری کو باقاعدہ سفارتکار اور اس کی گرفتاری کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے ویانا کنونشن کے تحت اس کی فوری رہائی کو مطالبہ کردیا ہے۔

ابنا: اسلام آباد میں امریکی سفارتخانہ سے جاری بیان کے مطابق لاہور میں امریکی سفارتکار کی گرفتاری غیر قانونی ہے، اس سفارت کار کا تعلق اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ سے ہے اور اس کے پاسپورٹ پر جون2012 تک ویزا موجود ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سفارت کار نے27 جنوری کو لاہور میں دو مسلح افراد سے بچنے کیلئے اپنے دفاع میں اقدام کیا، اسی مقام پر اس واقعے سے کچھ ہی منٹ پہلے دو جرائم پیشہ افراد نے ایک پاکستانی شہری کو بھی لوٹا تھا، گرفتاری پر سفارت کار نے اپنی شناخت کرائی لیکن مقامی پولیس اور سینئرحکام، امریکی سفارتکار کی شناخت پر قانونی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سفارت کار کی گرفتاری اور اس کا ریمانڈ، بین الاقوامی اقدار اور ویانا کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ لاہور میں انسانی ہلاکتوں کا معاملہ بھی قابل افسوس ہے جبکہ گرفتار سفارت کار کو فوری رہا بھی کیا جانا چاہیئے۔
بیان کے مطابق باہمی تعاون اور اشتراک عمل ، پاکستان اور امریکہ دونوں کے ہی مفاد میں ہے۔

بشکریہ از جنگ نیوز
۔۔۔۔۔۔۔
سوال یہ ہے کہ اگر مان بھی لیا جائے کہ یہ شخص اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کا اہلکار ہے تو وہ لاہور میں کیا کررہا تھا؟ وہ ایسے مقام پر کس مقصد کے لئے گیا ہوا تھا جہاں اس کے بقول دو پاکستانی شہریوں کو بھی لوٹ لیا گیا تھا؟ اس شخص نے پاکستانیوں پر فائرنگ کرتے ہوئے ویانا کنونشن کی کس شق کی پابندی کا ثبوت دیا ہے؟ کیا کسی سفارتکار کو کسی ملک کے شہریوں کے قتل کی اجازت ہے؟ اور اگر وہ کسی کو قتل کرے تو کیا وہ قانون سے بالاتر ہے؟ یا پھر یہ امریکیوں کا امتیاز ہے کہ وہ جہاں چاہیں جائیں اور جہاں بھی چاہیں کسی بھی ملک کے شہریوں کو کسی بھی بہانے سے قتل کریں اور پھر امریکی سفارتخانہ انہیں سفارتکار ظاہر کرکے اس ملک کو بین الاقوامی قوانین کی یادآوری کرائیں وہی قوانین جو ان کے بدمعاش شہری یا ناپسندیدہ سفانکار نے پاؤں تلے روند کر پامال کردیئے ہیں؟

.......

/110